صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »قصاید و قطعات
  4. »شمارهٔ 138

شمارهٔ 138

شاعر: سنایی

وزن: مفتعلن مفتعلن فاعلن (سریع مطوی مکشوف)

قافیہ: وستان

صنف: قصیده

Toggle stanza 1
1

گفت حکیمی که مفرح بود

آب و می و لحن و خوش و بوستان

2

هست ولیکن نبود نزد عقل

هیچ مفرح چو رخ دوستان

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای علایی ببین و نیک ببین

که زمانه ستمگریست عظیم

سنایی»دیوان اشعار»قصاید و قطعات»شمارهٔ 137

اگلی نظم

چند گویی که زحمتت کردم

تا نگردی ز من گران گران

سنایی»دیوان اشعار»قصاید و قطعات»شمارهٔ 139

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور