صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 112

غزل شمارهٔ 112

شاعر: سنایی

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

قافیہ: امایزد

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

عشق آن معشوق خوش بر عقل و بر ادراک زد

عشق بازی را بکرد و خاک بر افلاک زد

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 111

اگلی نظم

زهی مه رخ زهی زیبا بنامیزد بنامیزد

زهی خوشخو زهی والا بنامیزد بنامیزد

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 113

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00