صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 119

غزل شمارهٔ 119

شاعر: صائب

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: وبمرا

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

غوطه در گُل داده بود اندیشهٔ دنیا مرا

نالهٔ نی شد دلیلِ عالمِ بالا مرا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 118

اگلی نظم

عشق خونگرم از محبت کرده ایجاد مرا

آهوان از چشم نگذارند صیاد مرا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 120

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

التفاتی نیست با امید مطلوب مرا

مرحمت با یاس باشد، خوی محبوب مرا

عرفی»غزلیات»غزل شمارهٔ 11

شرم می‌آید ز قاصد طفل محبوب مرا

بر سر راهش بیندازید مکتوب مرا

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 11

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00