صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 3745

غزل شمارهٔ 3745

شاعر: صائب

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: لیدارد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1

صراحیی که دم صبح قلقلی دارد

چو بلبلی است که مد نظر گلی دارد

2

زبان شانه ز وصفش به یکدیگر پیچید

کجا بهشت چو آن زلف سنبلی دارد؟

3

سرم ز شعله سودا چو دود می نگرد

مگر دلم سر پیوند کاکلی دارد؟

4

ز حال صائب و نومیدیش چه می پرسی

نمی رسد به تو دستش، توکلی دارد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

شکفتگی ز می ناب تازگی دارد

نشاط در ره سیلاب تازگی دارد

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 3744

اگلی نظم

به سینه هرکه تمنای نوگلی دارد

ز هر الف به نظر شاخ سنبلی دارد

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 3746

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

به سینه هرکه تمنای نوگلی دارد

ز هر الف به نظر شاخ سنبلی دارد

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 3746

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور