صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 181

غزل شمارهٔ 181

شاعر: صائب

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: اریمرا

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

برگ عیشی نیست چشم از نوبهار او مرا

بس بود چون لاله داغی یادگار او مرا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 180

اگلی نظم

جلوهٔ برقی است در میخانه هشیاری مرا

از پی تغییرِ بالین است بیداری مرا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 182

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ای فکنده عزت حسنت به صد خواری مرا

از تو خشنودم به هر خواری که می داری مرا

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 28

جلوهٔ برقی است در میخانه هشیاری مرا

از پی تغییرِ بالین است بیداری مرا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 182

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00