صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 185

غزل شمارهٔ 185

شاعر: صائب

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: ینیمرا

صنف: غزل

صداکار: پری ساتکنی عندلیب
Toggle stanza 1
11
خواب غفلت شد گران از بس ز خودبینی مرا
سیل نتواند ز جا کندن ز سنگینی مرا
22
بود بی رنگی ز آفت جوشن داودیم
تخته مشق شکستن کرد رنگینی مرا
33
تا درین گلشن پر و بالم چو طوطی سبز شد
غوطه در زنگ قساوت داد خودبینی مرا
44
شد به من آب حیات از خاکساری خوشگوار
کرد دلسرد این سفال از کاسه چینی مرا
55
گر شد از شیرین زبانی قسمت طوطی شکر
نیست جز جوش مگس حاصل ز شیرینی مرا
66
دیگران گر انتظار روز محشر می کشند
محنت فرداست نقد از عاقبت بینی مرا
77
از حیات رفته صائب حاصل من حسرت است
نیست غیر از دست پرخاری ز گلچینی مرا
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نیست بر خاطر غباری از پریشانی مرا

جامه فتح است چون شمشیر عریانی مرا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 184

اگلی نظم

چشم مستش از نگاهی کرد سودایی مرا

کشتی از یک قطره می، گردید دریایی مرا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 186

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00