صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 2956

غزل شمارهٔ 2956

شاعر: صائب

وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)

قافیہ: تبرنمیدارد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

Toggle stanza 1
11

عرق رخسار آن خورشید طلعت برنمی‌دارد

که چشم از پشت پا نرگس ز خجلت برنمی‌دارد

22

نگردد چون سر انگشت اشارت رزق دندان‌ها؟

ولیکن منت دست حمایت برنمی‌دارد

33

مگر دیده است چشم خوش نگاه آن سمن‌بر را؟

زمین خانه‌بردوشان عمارت برنمی‌دارد

44

نپیچد سر ز زخم گاز شمع ما سیه‌روزان

گل این باغ شبنم از لطافت برنمی‌دارد

55

عبث معمار آب روی خود بر خاک می‌ریزد

که از لطف آن هلال ابرو اشارت برنمی‌دارد

66

بود شور قیامت نقد بر صاحبدلی صائب

که چشم خود از آن کان ملاحت برنمی‌دارد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دل بیمار من ناز مداوا برنمی‌دارد

گرانی از دمِ جان‌بخش عیسی بر نمی‌دارد

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 2955

اگلی نظم

نظر عاشق به خط زان روی انور برنمی دارد

به دود تلخ از آتش دل سمندر برنمی دارد

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 2957

◆

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ضعیفی‌ها بیان عجز طاقت برنمی‌دارد

سجود مشت خاک اظهار طاعت برنمی‌دارد

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 1045

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور