صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 4303

غزل شمارهٔ 4303

شاعر: صائب

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: ابمیجهد

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1

برقم ز خرمن از دل بیتاب می جهد

نبضم ز تاب دردچو سیماب می جهد

2

آرام رابه خواب نبیند، به مرگ هم

طفلی که از خروش من از خواب می جهد

3

پهلو ز بوریای قناعت تهی مکن

برق از سحاب بستر سنجاب می جهد

4

بازآکز انتظار تو هر شب هزار بار

چشم امیدواریم از خواب می جهد

5

صائب رضا به حادثه آسمان بده

این خار کی ز آفت سیلاب می جهد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هر بلبلی که بوی گل از خار نشنود

در بر گریز نکهت گلزار نشنود

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 4302

اگلی نظم

عشق غیور تن به نصیحت کجا دهد

طوفان عنان کجا به کف ناخدا دهد

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 4304

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور