صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 2451

غزل شمارهٔ 2451

شاعر: صائب

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: ومیکشد

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1

سر و بالای تو فریاد از لب جو می‌کشد

آب را بر خاک از رفتار دلجو می‌کشد

2

بر سر مجنون نمی‌آید دگر لیلی ز ناز

گردن بیهوده‌ای از دور آهو می‌کشد

3

دیده هرکس نشد حیران درین عبرت‌سرا

از سبک‌سنگی گرانی چون ترازو می‌کشد

4

بیشتر از طول چون مارست عرض راه تو

مستی غفلت ترا از بس به هرسو می‌کشد

5

صائب ماه نور در دلبری گرچه طاق افتاد(ه)

بر زمین خط پیش آن محراب ابرو می‌کشد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گرچه عمری شد صبا مشق ریاحین می کشد

خجلت روی زمین زان خط مشکین می کشد

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 2450

اگلی نظم

از سر پر آرزو دل زردرویی می کشد

عاقل از بالای جاهل زردرویی می کشد

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 2452

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور