صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 326

غزل شمارهٔ 326

شاعر: صائب

وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)

قافیہ: اغیمیشودپیدا

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
11
اگر در دل ز سوز عشق داغی می شود پیدا
به هر جانب که رو آری چراغی می شود پیدا
22
چراغ لاله از صدق طلب در سنگ روشن شد
برای سینه ما نیز داغی می شود پیدا
33
اگر مخمور پیش می نریزد آبروی خود
همان از بی دماغی ها دماغی می شود پیدا
44
غریبی ناله را رنگینی دیگر دهد، ورنه
برای بلبل ما کنج باغی می شود پیدا
55
به غیر از گوشه دل نیست صائب، بارها دیدم
اگر زیر فلک کنج فراغی می شود پیدا
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هَزاران همچو بلبل هر بهاری می‌شود پیدا

نواسنجی چو من در روزگاری می‌شود پیدا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 325

اگلی نظم

عتاب و لطف می گردد ز ابروی بتان پیدا

که باشد قوت بازوی هر کس از کمان پیدا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 327

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00