صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 454

غزل شمارهٔ 454

شاعر: صائب

وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)

قافیہ: ارما

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ندارد حاجت مشاطه روی گلعذار ما

پر طاوس مستغنی است از نقش و نگار ما

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 453

اگلی نظم

نباشد چون تن آسانان ز خورد و خواب عیش ما

ز اشک و آه می گردد به آب و تاب عیش ما

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 455

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00