صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »قطعات
  4. »شمارهٔ 11

شمارهٔ 11

شاعر: سعدی

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: خت

صنف: قطعه

صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1
11
چو خویشتن نتواند که می‌خورد قاضی
ضرورتست که بر دیگران بگیرد سخت
22
که گفت پیرزن از میوه می‌کند پرهیز؟
دروغ گفت که دستش نمی‌رسد به درخت
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

به سکندر نه ملک ماند و نه مال

به فریدون نه تاج ماند و نه تخت

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 10

اگلی نظم

چنین که هست نماند قرار دولت و ملک

که هر شبی را بی‌اختلاف روزی هست

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 12

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00