صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »مفردات
  4. »شمارهٔ 49

شمارهٔ 49

شاعر: سعدی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: یغ

صنف: غزل/قصیده/قطعه

Toggle stanza 1
1

گر خود همه عالم بگشایی تو به تیغ

چه سود که باز می‌گذاری به دریغ؟

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

به کین دشمنان باطل میندیش

که این حیفست ظاهر بر تن خویش

سعدی»مواعظ»مفردات»شمارهٔ 48

اگلی نظم

مکن عمر ضایع به افسوس و حیف

که فرصت عزیزست و الوقت سیف

سعدی»مواعظ»مفردات»شمارهٔ 50

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور