صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »قطعات
  4. »شمارهٔ 62

شمارهٔ 62

شاعر: سعدی

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: فتبگذرد

صنف: قطعه

Toggle stanza 1
1

من هرگز آب چاه ندیدم چنین مداد

بر یک ورق نویس که بر هفت بگذرد

2

نی نی ورق چه باشد و کیمخت گوسفند

از چرم گاو از سپر جفت بگذرد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

شد غلامی به جوی، کآب آرَد

آبِ جوی آمد و غلام بِبُرد

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 61

اگلی نظم

مر تو را چون دو کار پیش آید

که ندانی کدام باید کرد

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 63

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور