صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »قطعات
  4. »شمارهٔ 59

شمارهٔ 59

شاعر: سعدی

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: اضیدارد

صنف: قطعه

Toggle stanza 1
1

دیو اگر صومعه داری کند اندر ملکوت

همچو ابلیس همان طینت ماضی دارد

2

ناکسست آنکه به دراعه و دستار کسست

دزد دزدست وگر جامهٔ قاضی دارد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

تو خود جفا نکنی بی‌گناه بر بنده

وگر کنی سر تسلیم بر زمین دارد

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 58

اگلی نظم

طمعِ خام که سودی بِکُنَم

سود، سرمایه به‌یک‌بار بِبُرد

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 60

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور