صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »قصاید و قطعات عربی
  4. »شعر 17 - فی‌الغزل

شعر 17 - فی‌الغزل

شاعر: سعدی

صنف: مثنوی

Toggle stanza 1
1

قوماء اسقیانی علی الریحان واس

انی علی فرط ایام مضت اس

2

صهباء تحیی عظام المیت ان نقطت

علی‌الثری نقطة من مرشف الحاسی

3

در بالصحاف علی‌الندمان مصطبحا

الا علی بملاء الطاس و الکاس

4

هات العقار و خذ عقلی مقایضة

لعل تنقذنی من قید وسواس

5

واجل الظلام بشمس فی یدی قمر

یحکی بوجنته محراب شماس

6

روحی فدا بدن شبه اللجین ولو

سطا علی بقلب کالصفا القاسی

7

ابیت والناس هجعی فی منازلهم

یقظان اذکر عهدالنائم الناسی

8

جس المثانی تطیر نوم جیرانی

و غن شعری تطیب وقت جلاسی

9

انی امرؤ لایبالی کلما عذلوا

ان شت یا عاذلی قم ناد فی‌الناس

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

متی جمع شملی بالحبیب المغاضب

و کیف خلاص القلب من یدسالب

سعدی»مواعظ»قصاید و قطعات عربی»شعر 16 - ایضا فی‌الغزل

اگلی نظم

یا ندیمی قم تنبه واسقنی واسق الندامی

خلنی اسهر لیلی و دع الناس نیاما

سعدی»مواعظ»قصاید و قطعات عربی»شعر 18 - ایضا

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور