صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 14

غزل شمارهٔ 14

شاعر: سعدی

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: انتارزوست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

به جهان خُرَّم از آنم که جهان خُرَّم از اوست

عاشقم بر همه عالم که همه عالم از اوست

سعدی»مواعظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 13

اگلی نظم

هر که هر بامداد پیش کسیست

هر شبانگاه در سرش هوسیست

سعدی»مواعظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 15

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آدم نه ای و روضه رضوانت آرزوست

خاتم نه ای و دست سلیمانت آرزوست

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1948

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00