صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »قطعات
  4. »شمارهٔ 122

شمارهٔ 122

شاعر: سعدی

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: شاید

صنف: قطعه

Toggle stanza 1
1

نه آدمیست که در خرمی و مجموعی

به خستگان پراکنده بر نبخشاید

2

گلیم خویش برآرد سیه گلیم از آب

وگر گلیم رفیق آب می‌برد شاید

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

سفینهٔ حکمیات و نظم و نثر لطیف

که بارگاه ملوک و صدور را شاید

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 121 - در مدح صاحب دیوان

اگلی نظم

روز گم گشتن فرزند مقادیر قضا

چاه دروازهٔ کنعان به پدر ننماید

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 123

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور