صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 30

غزل شمارهٔ 30

شاعر: سعدی

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: منشود

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

روی در مسجد و دل ساکن خمار چه سود؟

خرقه بر دوش و میان بسته به زنار چه سود؟

سعدی»مواعظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 29

اگلی نظم

از صومعه رختم به خرابات برآرید

گرد از من و سجادهٔ طامات برآرید

سعدی»مواعظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 31

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

دل عاشق تهی از اشک دمادم نشود

بحر چندان که زند جوش کرم کم نشود

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 3605

گر خردمند از اوباش جفایی بیند

تا دل خویش نیازارد و درهم نشود

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 115

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00