صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »قطعات
  4. »شمارهٔ 165

شمارهٔ 165

شاعر: سعدی

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: سام

صنف: قطعه

Toggle stanza 1
1

مراد و مطلب دنیا و آخرت نبرد

مگر کسی که جوانمرد باشد و بسام

2

تو نیکنام شوی در زمانه ورنه بسست

خدای عز وجل رزق خلق را قسام

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ضرورت است که آحاد را سَری باشد

وگرنه مُلک نگیرد به‌هیچ‌روی نظام

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 164

اگلی نظم

طبیب و تجربت سودی ندارد

چو خواهد رفت جان از جسم مردم

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 166

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور