صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 56

غزل شمارهٔ 56

شاعر: سعدی

وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)

قافیہ: امی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

شبی در خرقه رندآسا، گذر کردم به میخانه

ز عشرت می‌پرستان را، منور بود کاشانه

سعدی»مواعظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 55

اگلی نظم

آستین بر روی و نقشی در میان افکنده‌ای

خویشتن پنهان و شوری در جهان افکنده‌ای

سعدی»مواعظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 57

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

بسیار سفر باید تا پخته شود خامی

صوفی نشود صافی تا درنکشد جامی

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 597

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00