صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 101

غزل شمارهٔ 101

شاعر: سعدی

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: اندوست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

این مطرب از کجاست که برگفت نام دوست؟

تا جان و جامه بذل کنم بر پیام دوست

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 100

اگلی نظم

تا دست‌ها کمر نکنی بر میان دوست

بوسی به کام دل ندهی بر دهان دوست

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 102

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

یا از زبان دوست شنو داستان دوست

یا از زبان آن که شنید از زبان دوست

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 120

باریکتر چرا نشوم از میان دوست؟

می بایدم گذشت ز تنگ دهان دوست

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 2018

تا دست‌ها کمر نکنی بر میان دوست

بوسی به کام دل ندهی بر دهان دوست

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 102

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00