صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 463

غزل شمارهٔ 463

شاعر: سعدی

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ردن

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

طوطی نگوید از تو دلاویزتر سخن

با شهد می‌رود ز دهانت به در سخن

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 462

اگلی نظم

دست با سرو روان چون نرسد در گردن

چاره‌ای نیست به جز دیدن و حسرت خوردن

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 464

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

کسی ملامتم از عشق روی او می‌کرد

که خیره چند شتابی به خون خود خوَردن؟

سعدی»دیوان اشعار»قطعات»قطعه شمارهٔ 16 - از او بپرس!

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00