صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 341

غزل شمارهٔ 341

شاعر: سعدی

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: رخویش

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هر کسی را هوسی در سر و کاری در پیش

منِ بی‌کار، گرفتارِ هوای دل خویش

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 340

اگلی نظم

یار بیگانه نگیرد هر که دارد یار خویش

ای که دستی چرب داری پیشتر دیوار خویش

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 342

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

مدار آینه را در صفا برابر خویش

به دست شانه مده طره معنبر خویش

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 498

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00