صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 612

غزل شمارهٔ 612

شاعر: سعدی

وزن: مفعول مفاعلن مفاعیلن (هزج مسدس اخرب مقبوض)

قافیہ: انی

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بهار آمد که هر ساعت رود خاطر به بستانی

به غلغل در سماع آیند هر مرغی به دستانی

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 611

اگلی نظم

ذوقی چنان ندارد بی دوست زندگانی

دودم به سر برآمد زین آتش نهانی

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 613

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00