صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 116

غزل شمارهٔ 116

شاعر: سعدی

وزن: مفعول مفاعلن فعولن (هزج مسدس اخرب مقبوض محذوف)

قافیہ: رنیست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

کیست آن کَش سر پیوند تو در خاطر نیست

یا نظر با تو ندارد مگرش ناظر نیست

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 115

اگلی نظم

ای که گفتی هیچ مشکل چون فراق یار نیست

گر امید وصل باشد همچنان دشوار نیست

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 117

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

معشوقه از آن ظریف‌تر نیست

زان عشوه‌فروش و عشوه‌خر نیست

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 61

دل خون شد و از توام خبر نیست

هر روز مرا دلی دگر نیست

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 112

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00