صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »قطعات
  4. »قطعه شمارهٔ 4 - پیداست که آخرالزمان است!

قطعه شمارهٔ 4 - پیداست که آخرالزمان است!

شاعر: سعدی

وزن: مفعول مفاعلن فعولن (هزج مسدس اخرب مقبوض محذوف)

قافیہ: انست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: قطعه

صداکاران: فاطمه زندی، محسن لیله‌کوهی
Toggle stanza 1
1
2
3
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گفتم چه کرده‌ام که نگاهم نمی‌کنی؟

وآن دوستی که داشتی اول چرا کم است؟

سعدی»دیوان اشعار»قطعات»قطعه شمارهٔ 3

اگلی نظم

خوب را گو پلاس در بر کن

که همان لعبت نگارینست

سعدی»دیوان اشعار»قطعات»قطعه شمارهٔ 5

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

چشم تو طلسم جاودانست

یا فتنهٔ آخرالزمانست

سعدی»دیوان اشعار»ملحقات و مفردات»شمارهٔ 5

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00