صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 34

رباعی شمارهٔ 34

شاعر: سعدی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: بردارد

صنف: رباعی

صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1
11
دستارچه‌ای کان بت دلبر دارد
گر بویی ازان باد صبا بردارد
22
بر مردهٔ صد ساله اگر برگذرد
در حال ز خاک تیره سر بردارد
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

کس عهد وفا چنان که پروانهٔ خُرد

با دوست به پایان نشنیدیم که برد

سعدی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 33

اگلی نظم

گر باد ز گل حسن شبابش ببرد

بلبل نه حریفست که خوابش ببرد

سعدی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 35

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00