صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 130

رباعی شمارهٔ 130

شاعر: سعدی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ویتونه

صنف: رباعی

صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1
11
ای راهروان را گذر از کوی تو نه
ما بیخبر از عشق و خبر سوی تو نه
22
هر تشنه که از دست تو بستاند آب
از دست تو سیر گردد از روی تو نه
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای مطرب ازان حریف پیغامی ده

وین دل‌شده را به عشوه آرامی ده

سعدی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 129

اگلی نظم

هرگز بود آدمی بدین زیبایی؟

یا سرو بدین بلند و خوش بالایی؟

سعدی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 131

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00