صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 126

غزل شمارهٔ 126

شاعر: سعدی

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

قافیہ: یرتونیست

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

کس ندانم که در این شهر گرفتار تو نیست

هیچ بازار چنین گرم که بازار تو نیست

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 125

اگلی نظم

دل نمانده‌ست که گوی خم چوگان تو نیست

خصم را پای گریز از سر میدان تو نیست

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 127

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00