صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 189

غزل شمارهٔ 189

شاعر: سعدی

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: انرسد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

به حدیث در نیایی که لبت شکر نریزد

نچمی که شاخ طوبی به ستیزه بر نریزد

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 188

اگلی نظم

از این تعلق بیهوده تا به من چه رسد

وز آن که خون دلم ریخت تا به تن چه رسد

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 190

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

هیچ شب تیر غمت بر دل شیدا نرسد

که فغانم به مه آهم به ثریا نرسد

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 167

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00