صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 131

غزل شمارهٔ 131

شاعر: سعدی

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

قافیہ: انداشت

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دوش دور از رویت ای جان، جانم از غم تاب داشت

ابر چشمم بر رخ از سودای دل سیلآب داشت

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 130

اگلی نظم

چو ابر زلف تو پیرامن قمر می‌گشت

ز ابر دیده کنارم به اشک تر می‌گشت

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 132

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ترک مستم که قصد ایمان داشت

چشم او میل غارت جان داشت

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 364

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00