صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 256

غزل شمارهٔ 256

شاعر: سعدی

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ابود

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

تو را سماع نباشد که سوز عشق نبود

گمان مبر که برآید ز خام هرگز دود

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 255

اگلی نظم

از دست دوست هر چه ستانی شکر بود

وز دست غیر دوست تبرزد تبر بود

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 257

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

سال‌ها دفترِ ما در گرو صَهبا بود

رونقِ میکده از درس و دعایِ ما بود

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 203

یاد باد آن که نَهانَت نظری با ما بود

رَقَمِ مِهرِ تو بر چهرهٔ ما پیدا بود

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 204

هرچه دریافت کلیم از نظر بینا بود

کف این بحر گهرخیز ید بیضا بود

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 3548

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00