صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 631

غزل شمارهٔ 631

شاعر: سعدی

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: وی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مرحبا ای نسیم عنبربوی

خبری زآن به خشم رفته بگوی

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 630

اگلی نظم

سروِ سیمینا به صحرا می‌روی

نیک بدعهدی که بی ما می‌روی

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 632

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

خواستم زو آبرویی، گفت «بیهوده مگوی

عاشقان را ز آب چشم خویش باشد آبروی »

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1834

سهل عبدالله تستری - قدس سره - می گوید: که هر که بامداد کند و همت وی آن باشد که چه خورد، دست از وی بشوی.

هرکه خیزد بامداد از خواب و نبود در سرش

جامی»بهارستان»روضهٔ نخستین (در ذکر احوال مشایخ صوفیه)»بخش 14

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00