صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 257

غزل شمارهٔ 257

شاعر: سعدی

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: ربود

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نفسی، وقت بهارم، هوس صحرا بود

با رفیقی دو که دایم نتوان تنها بود

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 256

اگلی نظم

مرا راحت از زندگی دوش بود

که آن ماهرویم در آغوش بود

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 258

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

اشکی که گوهرش ز نژاد جگر بود

هرقطره اش ستاره صبح اثر بود

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 4237

ای بلهوس که آمده میهمان وعظ

وقتی بیا که زهر بکامت شکر بود

عرفی»قطعات»شمارهٔ 18 - مهمان وعظ

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00