صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 625

غزل شمارهٔ 625

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)

قافیہ: ادارد

صنف: غزل

صداکاران: فاطمه زندی، عندلیب
Toggle stanza 1
11
گر ماه شب افروزان روپوش روا دارد
گیرم که بپوشد رو بو را چه دوا دارد
22
گر نیز بپوشد رو ور نیز ببرد بو
از خنبش روحانی صد گونه گوا دارد
33
آن مه چو گریزانه آید سپس خانه
لیکن دل دیوانه صد گونه دغا دارد
44
غم گرچه بود دشمن گوید سر او با من
با مرغ دلم گوید کو دام کجا دارد
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هر ذره که بر بالا مِی‌ نوشد و پا کوبد

خورشید ازل بیند وز عشق خدا کوبد

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 624

اگلی نظم

هر کآتش من دارد او خرقه ز من دارد

زخمی چو حسینستش جامی چو حسن دارد

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 626

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00