صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 1768

غزل شمارهٔ 1768

شاعر: رومی

وزن: مفتعلن مفتعلن فاعلن (سریع مطوی مکشوف)

قافیہ: وختم

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
11
چند قبا بر قد دل دوختم
چند چراغ خرد افروختم
22
پیر فلک را که قراریش نیست
گردش بس بوالعجب آموختم
33
گنج کرم آمد مهمان من
وام فقیران ز کرم توختم
44
حاصل از این سه سخنم بیش نیست
سوختم و سوختم و سوختم
55
بر مثل شمعم من پاکباز
ریختم آن دخل که اندوختم
66
بس که بسی نکته عیسی جان
در دل و در گوش خر اسپوختم
77
بس که اذا تم دنا نقصه
تا بنگوید صنم شوخ تم
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

تو چه دانی که ما چه مرغانیم

هر نفس زیر لب چه می خوانیم

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1767

اگلی نظم

ای دل صافی دم ثابت قدم

جئت لکی تنذر خیر الامم

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1769

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00