صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 90

غزل شمارهٔ 90

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)

قافیہ: متوجانا

صنف: غزل

Toggle stanza 1
11
ای شاد که ما هستیم اندر غم تو جانا
هم محرم عشق تو هم محرم تو جانا
22
هم ناظر روی تو هم مست سبوی تو
هم شِسته به نظاره بر طارم تو جانا
33
تو جانِ سلیمانی آرامگهِ جانی
ای دیو و پری شیدا از خاتم تو جانا
44
ای بیخودیِ جان‌ها در طلعت خوب تو
ای روشنی دل‌ها اندر دم تو جانا
55
در عشق تو خمارم در سر ز تو می دارم
از حسن جمالات پرخرّم تو جانا
66
تو کعبه عشاقی شمس الحق تبریزی
زمزم شکر آمیزد از زمزم تو جانا
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

یک پند ز من بشنو خواهی نشوی رسوا

من خمره‌ی افیونم زنهار سرم مگشا

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 89

اگلی نظم

در آب فکن ساقی بط زاده آبی را

بشتاب و شتاب اولی مستان شبابی را

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 91

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00