صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. حافظ
  2. »غزلیات
  3. »غزل شمارهٔ 453

غزل شمارهٔ 453

شاعر: حافظ

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

قافیہ: وری

صنف: غزل

Toggle stanza 1
11
ای که دایم به خویش مغروری
گر تو را عشق نیست معذوری
22
گِرد دیوانگان عشق مگرد
که به عقل عقیله مشهوری
33
مستی عشق نیست در سر تو
رو که تو مست آب انگوری
44
روی زرد است و آه دردآلود
عاشقان را دوای رنجوری
55
بگذر از نام و ننگ خود حافظ
ساغر مِی‌ طلب که مخموری
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

طُفیلِ هستیِ عشقند آدمیّ و پَری

ارادتی بنما تا سعادتی بِبَری

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 452

اگلی نظم

ز کوی یار می‌آید نسیمِ بادِ نوروزی

از این باد ار مدد خواهی، چراغِ دل برافروزی

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 454

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00