صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. حافظ
  2. »غزلیات
  3. »غزل شمارهٔ 397

غزل شمارهٔ 397

شاعر: حافظ

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: رکن

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

صبح است ساقیا قدحی پرشراب کن

دور فلک درنگ ندارد شتاب کن

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 396

اگلی نظم

ای نور چشم من سخنی هست گوش کن

چون ساغرت پُر است بنوشان و نوش کن

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 398

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

دمید صبح، سر از خواب بیخودی برکن

ز اشک گرم می آتشین به ساغر کن

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 6337

ترا که گفت وطن زیر چراغ اخضر کن؟

درین محیط پر از خون چو نوح لنگر کن

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 6338

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00