صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عراقی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 18

غزل شمارهٔ 18

شاعر: عراقی

وزن: مفتعلن فاعلن مفتعلن فاعلن (منسرح مطوی مکشوف)

قافیہ: انیاست

صنف: غزل

صداکاران: فاطمه زندی، سهیل قاسمی
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

از میکده تا چه شور برخاست؟

کاندر همه شهر شور و غوغاست

عراقی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 17

اگلی نظم

ز خواب، نرگس مست تو سر گران برخاست

خروش و ولوله از جان عاشقان برخاست

عراقی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 19

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00