صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 181

غزل شمارهٔ 181

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعلن فعولن (هزج مسدس اخرب مقبوض محذوف)

قافیہ: اردارد

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
11
دل درد تو یادگار دارد
جان عشق تو غمگسار دارد
22
تا عشق تو در میان جان است
جان از دو جهان کنار دارد
33
تا خورد دلم شراب عشقت
سرگشتگی خمار دارد
44
مسکین دل من چو نزد تو نیست
در کوی تو خود چکار دارد
55
راز تو نهان چگونه دارم
کاشکم همه آشکار دارد
66
چندین غم بی نهایت از تو
عطار ز روزگار دارد
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

صبح بر شب شتاب می‌آرد

شب سر اندر نقاب می‌آرد

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 180

اگلی نظم

سر زلف تو بوی گلزار دارد

لب لعل تو رنگ گلنار دارد

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 182

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00