صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق
  3. »بخش 1 - بخوانندهٔ کتاب

بخش 1 - بخوانندهٔ کتاب

قاری کے نام

To The Reader

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: تخرداست

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، بشیر احمد
صداکاران: فاطمه زندی، مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
1

میں ملک عشق سے نیا لشکر بھرتی کر رہا ہوں —

کیونکہ حرم کے اندر عقل کی بغاوت کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

I am raising a new army from the land of love —

For within the sanctuary, there is a threat of rebellion by reason.

2

زمانہ جنوں کی حقیقت سے بالکل بے خبر ہے —

حالانکہ یہی وہ قبا ہے جو خرد کی قدر و قیمت کے لیے موزوں ہے۔

The world knows nothing of the reality of Junoon —

For it is the robe perfectly tailored to the stature of reason.

3

میں نے یہ قبا پہنی تو ایسے مقام تک پہنچ گیا —

کہ عقل میرے در کے طواف کو اپنی سعادت سمجھتی ہے۔

When I donned this robe, I reached such a station —

That reason considered the circling of my threshold its fortune.

4

یہ گمان نہ کر کہ عقل کے لیے حساب و میزان نہیں —

مرد مومن کی نگاہ عقل کی قیامت ہے۔

Do not think that reason has no reckoning or measure —

For the gaze of a true believer is the apocalypse of reason.

◆

اگلی / پچھلی نظم

اگلی نظم

پیر رومی مرشد روشن ضمیر

کاروان عشق و مستی را امیر

علامہ اقبال»مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق»بخش 2 - تمهید

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00