صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق
  3. »بخش 14 - در حضور رسالت مآب

بخش 14 - در حضور رسالت مآب

بحضورِ رسالت مآب ﷺ

To The Holy Prophet (P.B.U.H)

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، بشیر احمد
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
بند 1
Toggle stanza 1
11
ای تو ما بیچارگان را ساز و برگ
وا رهان این قوم را از ترس مرگ

رسول اللہ ﷺ آپ ہم بیچارے لوگوں کا بہت بڑا سرمایہ ہیں —

اس قوم کو موت کے خوف سے رہائی دلائیے۔

O Messenger of Allah (P.B.U.Y), you are the greatest wealth of us helpless souls —

Grant this nation deliverance from the fear of death.

22
سوختی لات و منات کهنه را
تازه کردی کائنات کهنه را

یا رسول اللہ ﷺ آپ نے پرانے بت لات و منات جلا دیے —

آپ نے قدیم دنیا کو نئی زندگی عطا فرمائی۔

O Messenger of Allah (P.B.U.Y), you burned down the ancient idols of Lat and Manat —

You breathed new life into the ancient world.

33
در جهان ذکر و فکر انس و جان
تو صلوت صبح تو بانگ اذان

انسانوں اور جنوں کے جہان ذکر و فکر میں —

آپ صبح کی نماز ہیں اور آپ ہی اذان کی آواز ہیں۔

In the realm of thought and remembrance of men and jinn —

You are the morning prayer, and you are the call of the Adhan.

44
لذت سوز و سرور از لا اله
در شب اندیشه نور از لا اله

سوز و سرور کی لذت لا الہ سے ہے —

اندیشے کی تاریک رات کو لا الہ کا نور روشن کرتا ہے۔

The delight of burning and ecstasy flows from La Ilaha —

The dark night of apprehension is illumined by the light of La Ilaha.

55
نی خدا ها ساختیم از گاو و خر
نی حضور کاهنان افکنده سر

حضور ہم نے نہ تو کسی گائے، گدھے کو اپنا معبود بنایا —

اور نہ کاہنوں کے آگے اپنا سر جھکایا۔

Beloved Master, we took neither cow nor donkey for our god —

Nor did we bow our heads before the soothsayers.

66
نی سجودی پیش معبودان پیر
نی طواف کوشک سلطان و میر

نہ پرانے خداؤں کو سجدہ کیا —

نہ بادشاہوں اور امراء کے محلات کا طواف کیا۔

We did not prostrate before ancient deities —

Nor did we circle the palaces of kings and nobles.

77
این همه از لطف بی پایان تست
فکر ما پروردهٔ احسان تست

یہ سب حضور ہی کے بے حد لطف و کرم کے طفیل ہے —

ہماری فکر حضور ہی کے احسان کی پروردہ ہے ۔

All this is by the grace of your boundless favor —

Our thought is nurtured entirely by your benevolence.

88
ذکر تو سرمایهٔ ذوق و سرور
قوم را دارد به فقر اندر غیور

حضور کا ذکر ذوق و سرور کا سرمایہ ہے —

اسی سے قوم فقر میں غیور ہے۔

The remembrance of you is our wealth of delight and ecstasy —

By this alone does the nation stand proud in its poverty.

99
ای مقام و منزل هر راهرو
جذب تو اندر دل هر راهرو

حضور آپ ہر مسافر کے لیے مقام و منزل کی حیثیت رکھتے ہیں —

ہر سالک کے دل میں حضور آپ ہی کا جذب ہے۔

Beloved Master, you are the ultimate station and destination for every traveler —

In the heart of every seeker, it is your pull that resides.

1010
ساز ما بی صوت گردید آنچنان
زخمه بر رگهای او آید گران

حضور ہمارا ساز کچھ ایسا بے آواز ہو گیا ہے —

کہ اب تو مضراب بھی اس کے تاروں پر گراں گزرتی ہے۔

Beloved Master, our lute has become so utterly voiceless —

That even the strike of the plectrum weighs heavy upon its strings.

1111
در عجم گردیدم و هم در عرب
مصطفی نایاب و ارزان بولهب

میں عجم میں بھی پھرا ہوں اور عرب میں بھی —

ہر جگہ حضور ﷺ کے رنگ میں رنگے ہوئے لوگ نایاب ہیں، ابولہب زیادہ ہیں۔

I have wandered through Ajam and I have roamed through Arab —

Those dyed in your hue are rare, while the likes of Abu Lahab are many.

1212
این مسلمان زادهٔ روشن دماغ
ظلمت آباد ضمیرش بی چراغ

اس روشن دماغ مسلمان نسل کی حالت یہ ہے کہ —

اس کے ضمیر کی اندھیر نگری چراغ کے بغیر ہے۔

Such is the state of this bright-minded Muslim generation —

The dark realm of their conscience remains without a lamp.

1313
در جوانی نرم و نازک چون حریر
آرزو در سینهٔ او زود میر

جوانی میں ریشم کی طرح نرم و نازک ہے —

اس کے دل میں پیدا ہونے والی آرزو کا جلد ہی دم گھٹ جاتا ہے۔

In youth, he is as soft and delicate as silk —

The yearning born in his breast is swiftly suffocated.

1414
این غلام ابن غلام ابن غلام
حریت اندیشهٔ او را حرام

یہ نسل در نسل غلام ہے —

اس کے لیے آزادی کے بارے میں سوچنا حرام ہے۔

This is a slave, son of a slave, son of a slave —

For him, even the thought of freedom is forbidden.

1515
مکتب از وی جذبهٔ دین در ربود
از وجودش این قدر دانم که بود

جدید تعلیم نے اس سے دین کا جذبہ چھین لیا ہے —

اسکے وجود کے متعلق میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ وہ کبھی تھا۔

Modern schooling has stolen the passion of faith from him —

Of his existence, I know only that he once was.

1616
این ز خود بیگانه این مست فرنگ
نان جو می خواهد از دست فرنگ

اپنے آپ سے نا آشنا ہے اور افکار فرنگ میں مست ہے —

وہ صرف اتنا چاہتا ہے کہ فرنگیوں کے ہاتھ سے اسے جو کی روٹی مل جائے۔

He is a stranger to himself, intoxicated by Western thought —

He desires only to receive a loaf of barley bread from the hands of the Franks.

1717
نان خرید این فاقه کش با جان پاک
داد ما را ناله های سوز ناک

اس کنگال بھوکے نے اپنی پاک جان دے کر روٹی خریدی —

اس کے اس طرز عمل نے ہمیں دردناک نالوں پر مجبور کر دیا۔

This starving wretch purchased bread at the price of his pure soul —

His conduct has compelled us to utter sorrowful laments.

1818
دانه چین مانند مرغان سرا ست
از فضای نیلگون ناآشناست

وہ پالتو پرندوں کی طرح دانہ ہی چگ سکتا ہے —

اور آسمان کی وسعتوں سے نا آشنا ہے۔

Like a domesticated bird, he can only peck at seeds —

He remains a stranger to the vastness of the azure skies.

1919
شیخ مکتب کم سواد و کم نظر
از مقام او نداد او را خبر

اسکول کا استاد نالائق اور کم نظر ہے —

اس نے اس نئی نسل کو اس کے مقام سے آگاہ ہی نہیں کیا۔

The schoolmaster is inept and short-sighted —

He has failed to awaken this new generation to its true station.

2020
آتش افرنگیان بگداختش
یعنی این دوزخ دگرگون ساختش

افرنگیوں کی آگ نے اس کو پگھلا کے رکھ دیا ہے —

یعنی اس دوزخ نے اس کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔

The fire of the Franks has melted him down —

That is to say, this inferno has utterly deformed his true nature.

2121
مؤمن و از رمز مرگ آگاه نیست
در دلش لا غالب الا الله نیست

وہ ہے تو صاحب ایمان لیکن موت کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہے —

اس کے دل کا 'لاغالب الا اللہ' پر جیسے ایمان ہی نہیں۔

He is a believer, yet unaware of the reality of death —

It is as if his heart has no faith in "None is victorious save Allah."

2222
تا دل او در میان سینه مرد
می نیندیشد مگر از خواب و خورد

چونکہ اس کا دل سینے میں مر چکا ہے —

اس لیے اسے کھانے پینے اور سونے کے علاوہ اور کچھ سوجھتا ہی نہیں۔

Because his heart has died within his breast —

He can think of nothing but eating, drinking, and slumber.

2323
بهر یک نان نشتر «لا و نعم»
منت صد کس برای یک شکم

ایک روٹی کی خاطر 'لا اور نعم' کے نشتر کے زخم کھاتا ہے —

اور ایک پیٹ کے لیے سینکڑوں کا احسان اٹھاتا ہے (خوشامد کرتا ہے)۔

For a single loaf, he endures the wounds of the lancets of "no" and "yes." —

And for the sake of one stomach, he bears the favors of hundreds.

2424
از فرنگی می خرد لات و منات
مؤمن و اندیشه او سومنات

وہ فرنگی سے لات و منات خریدتا ہے —

(افسوس کہ ) وہ صاحب ایمان ہوتے ہوئے بھی سومناتی سوچ کا حامل ہے۔

He purchases his idols from the Franks —

Though a believer, alas, his mind is a temple of idols.

2525
«قم باذنی» گوی و او را زنده کن
در دلش «الله هو» را زنده کن

حضور 'قم باذنی' فرما کر اسے زندہ کر دیں —

اسکے دل کو اللہ ہو سے زندگی عطا کر دیں۔

Beloved Master, say "Arise by My command" and bring him back to life —

Bestow life upon his heart with the chant of Allah Hu.

2626
ما همه افسونی تهذیب غرب
کشتهٔ افرنگیان بی حرب و ضرب

ہم سب تہذیب مغرب کے سحرزدہ ہیں —

ہمیں فرنگیوں نے بغیر جدال و قتال کے قتل کر دیا ہے۔

We are all spellbound by the culture of the West —

The Franks have slain us without sword or battle.

2727
تو از آن قومی که جام او شکست
وا نما یک بنده الله مست

حضور آپ اس قوم میں سے جس کا جام ٹوٹ چکا ہے —

کسی درویش خدا مست کو ظاہر فرما دیجئے۔

Beloved Master, from this nation whose goblet has shattered —

Reveal a single dervish intoxicated by God.

2828
تا مسلمان باز بیند خویش را
از جهانی برگزیند خویش را

تاکہ مسلمان پھر اپنے آپ کو پا لے —

اور اس طرح خود کو دنیا میں برگزیدہ بنا لے۔

So that the Muslim might discover himself once more —

And thus make himself the chosen one of the world.

بند 2
Toggle stanza 2
2929
شهسوارا ! یک نفس در کش عنان
حرف من آسان نیاید بر زبان

اے شہسوار ﷺ! ایک لمحے کے لیے اپنے گھوڑے کو روکیے —

میری بات تو اتنی جلدی اور آسانی سے زبان پر نہ آ سکے گی۔

O Heavenly Rider, rein in your steed for but a moment —

My words will not easily or swiftly come to my tongue.

3030
آرزو آید که ناید تا به لب
می نگردد شوق محکوم ادب

میری آرزو (خدا معلوم) ہونٹوں تک آتی بھی ہے یا نہیں —

عشق تو ادب کا پابند نہ ہو گا۔

God knows if my longing will even reach my lips —

For love shall not be shackled by the bounds of etiquette.

3131
آن بگوید لب گشا ای دردمند
این بگوید چشم بگشا لب ببند

آرزو کہتی ہے کہ اے صاحب درد تو لب تو کھول —

اور عشق کا کہنا ہے کہ ہونٹ بند رکھ اور آنکھیں کھول تاکہ نظارہ کر سکے۔

Longing says, "O bearer of pain, open your lips." —

While love commands, "Keep your lips sealed and open your eyes to witness.".

3232
گرد تو گردد حریم کائنات
از تو خواهم یک نگاه التفات

حضور پوری کائنات آپ کے گرد گھوم رہی ہے —

میں حضور سے ایک نگاہ التفات کی التجا کرتا ہوں۔

Beloved Master, the entire universe revolves around you —

I entreat you for a single glance of your favor.

3333
ذکر و فکر و علم و عرفانم توئی
کشتی و دریا و طوفانم توئی

میرا ذکر اور فکر اور علم و عرفان حضور آپ ہی ہیں —

میری کشتی، میرا سمندر اور میرا طوفان سبھی کچھ حضور آپ ہی ہیں۔

My remembrance, my thought, my knowledge, and my gnosis are all you —

My vessel, my ocean, and my storm are all you.

3434
آهوی زار و زبون و ناتوان
کس به فتراکم نبست اندر جهان

میں تو ایک نحیف و نزار اور لاغر ہرن ہوں —

دنیا میں مجھے کسی نے بھی اپنے فتراک میں نہیں باندھا۔

I am but a frail, wretched, and feeble gazelle —

In this world, no one has bound me to their saddle-strap.

3535
ای پناه من حریم کوی تو
من به امیدی رمیدم سوی تو

حضور آپ کا مبارک کوچہ میری پناہ گاہ ہے —

میں ایک امید پر آپ کی طرف دوڑتا چلا آ رہا ہوں۔

Beloved Master, your blessed street is my sanctuary —

Clinging to a single hope, I come running toward you.

بند 3
Toggle stanza 3
3636
آن نوا در سینه پروردن کجا
وز دمی صد غنچه وا کردن کجا

(اب) وہ سینے میں نوا کی پرورش کرنا کہاں؟

اور ایک پھونک سے سو غنچے کِھلانا کہاں؟

Gone is the art of nurturing the anthem in the breast —

And lost the breath that woke a hundred blossoms from their rest.

3737
نغمهٔ من در گلوی من شکست
شعله ئی از سینه ام بیرون نجست

میرا نغمہ تو میرے گلے ہی میں ٹوٹ گیا ہے —

میرے سینے سے ایک بھی شعلہ باہر نہیں لپکا۔

My song has shattered right within my throat —

Not a single flame has leapt forth from my breast.

3838
در نفس سوز جگر باقی نماند
لطف قرآن سحر باقی نماند

میرے سانس میں جگر کا سوز باقی نہیں رہا —

صبح کے وقت تلاوت قرآن کا لطف بھی جاتا رہا۔

The burning passion within the breath remains no more —

The sweet joy of reciting the Quran at dawn is no more.

3939
ناله ئی کو می نگنجد در ضمیر
تا کجا در سینه ام ماند اسیر

وہ نالہ جو میرے ضمیر میں نہیں سما سکتا —

کب تک میرے سینے میں مقید رہے گا ۔

That lament which cannot be contained within my conscience —

How long shall it remain imprisoned in my breast?

4040
یک فضای بیکران میبایدش
وسعت نه آسمان میبایدش

اس کے لیے تو ایک بے کراں وسعت درکار ہے —

بلکہ اسے تو نو آسمانوں کی وسعت چاہیے۔

For it demands a boundless expanse —

Indeed, it requires the vastness of the nine heavens.

بند 4
Toggle stanza 4
4141
آه زان دردی که در جان و تن است
گوشهٔ چشم تو داروی من است

افسوس کہ جان و تن کو ایک دکھ لگ گیا ہے —

اس کا علاج صرف آپ کا گوشۂ چشم ہے۔

Alas for the sorrow that has afflicted both body and soul!

Its only remedy is a glance from the corner of your eye.

4242
در نسازد با دواها جان زار
تلخ و بویش بر مشامم ناگوار

میری ناتوان جان ان دواؤں کو پسند نہیں کرتی —

دوا کی کڑواہٹ اور بو میرے دماغ کے لیے گویا اذیت ہے۔

My frail life cannot abide these medicines —

The bitterness and odor of the remedy are a torment to my mind.

4343
کار این بیمار نتوان برد پیش
من چو طفلان نالم از داروی خویش

مجھ بیمار کی بات آگے نہیں بڑھائی جا سکتی —

کیونکہ میں تو اپنی دوا دیکھ کر بچوں کی طرح رونے لگتا ہوں۔

The matter of this sick one cannot be advanced any further —

For, seeing my medicine, I begin to weep like a child.

4444
تلخی او را فریبم از شکر
خنده ها در لب بدوزد چاره گر

دوا کی کڑواہٹ کو چینی ملا کر فریب دیتا ہوں —

جس پر میرا معالج اپنی ہنسی بمشکل ہی روک پاتا ہے۔

I deceive the bitterness of the remedy by mixing it with sugar —

At which my healer can barely hold back his smile.

4545
چون بصیری از تو میخواهم گشود
تا بمن باز آید آن روزی که بود

بصیری کی طرح میں بھی آپ سے شفا کا خواہاں ہوں —

تاکہ میں پھر سے اپنی پہلی سی حالت صحت پر آ جاؤں۔

Like Busiri, I too seek healing from you —

So that I may be restored to my former state of health.

4646
مهر تو بر عاصیان افزونتر است
در خطا بخشی چو مهر مادر است

حضور کی شفقت گنہگاروں پر زیادہ ہوتی ہے —

اور یہ محبت خطا سے درگزر کرنے کے معاملے میں ماں کی شفقت کی مانند ہے۔

Your compassion for sinners is ever greater —

In forgiving faults, your love is like the tenderness of a mother.

4747
با پرستاران شب دارم ستیز
باز روغن در چراغ من بریز

میں تاریکی کے پرستاروں (یعنی باطل قوتوں کے پجاریوں ) سے الجھتا ہوں —

حضور میرے چراغ میں اور تیل ڈال دیجیے۔

I clash with the worshippers of darkness —

Beloved Master, pour more oil into my lamp!

4848
ای وجود تو جهان را نو بهار
پرتو خود را دریغ از من مدار

حضور آپ کا وجودِ مبارک تمام کائنات کے لیے نوبہار ہے —

مجھ سے اپنے پرتو مبارک کو دور نہ رکھیے۔

Beloved Master, your blessed being is a new spring for the entire universe —

Do not withhold your radiant reflection from me.

”“
4949
«خود بدانی قدر تن از جان بود
قدر جان از پرتو جانان بود»

آپ جانتے ہیں کہ جسم کی وقعت و اہمیت روح سے ہے —

اور روح کی قدر و وقعت محبوب کے پرتو سے ہے ۔

You know well that the body’s worth comes from the soul —

And the worth of the soul comes from the reflection of the Beloved.

رومی
5050
تا ز غیر الله ندارم هیچ امید
یا مرا شمشیر گردان یا کلید

چونکہ مجھے کسی غیر اللہ سے کوئی امید نہیں ہے —

اس لیے حضور یا آپ مجھے تلوار بنا دیجئے یا پھر کلید۔

Since I harbor no hope in anyone other than Allah —

Therefore, Beloved Master, make me either a sword or a key.

5151
فکر من در فهم دین چالاک و چست
تخم کرداری ز خاک من نرست

میری عقل و دانش دین کے فہم میں بڑی تیز ہے —

لیکن افسوس ہے کہ میری خاکِ بدن سے عمل کا کوئی بیج نہیں پھوٹا۔

My intellect is swift and sharp in comprehending the faith —

But alas, no seed of action has sprouted from the soil of my body.

5252
تیشه ام را تیز تر گردان که من
محنتی دارم فزون از کوهکن

میری کلہاڑی کو اور تیز کر دیجئے —

کیونکہ مجھے فرہاد سے بھی زیادہ محنت در پیش ہے۔

Sharpen my axe even further —

For the toil that lies before me is greater than that of Farhad.

5353
مؤمنم ، از خویشتن کافر نیم
بر فسانم زن که بد گوهر نیم

میں صاحب ایمان ہوں، اپنی ذات کا منکر نہیں ہوں —

مجھے سان پر چڑھائیے کیونکہ میں برا لوہا نہیں ہوں۔

I am a believer; I do not deny my own essence —

Put me to the whetstone, for I am not of worthless iron.

بند 5
Toggle stanza 5
5454
گرچه کشت عمر من بیحاصل است
چیزکی دارم که نام او دل است

اگرچہ میری زندگی کی کھیتی بے حاصل ہے —

تاہم میرے پاس ایک حقیر سی چیز ہے جس کا نام دل ہے۔

Though the field of my life has yielded no harvest —

I still possess a trifling thing that is called a heart.

5555
دارمش پوشیده از چشم جهان
کز سم شبدیز تو دارد نشان

میں نے اسے دنیا کی نظروں سے چھپا کر رکھا ہے —

کیونکہ اس دل پر حضور کے گھوڑے کے سم کا نشان ہے۔

I have kept it hidden from the eyes of the world —

For upon this heart lies the mark of the hoof of your majestic steed.

5656
بنده ئی را کو نخواهد ساز و برگ
زندگانی بی حضور خواجه مرگ

ایسے غلام کے لیے جو مال و دولت کا خواہاں نہیں —

آقا کے قرب کے بغیر زندگی موت کے برابر ہے۔

For such a slave who seeks neither wealth nor provisions —

Life without the nearness of the Master is equal to death.

5757
ای که دادی کرد را سوز عرب
بندهٔ خود را حضور خود طلب

حضور آپ نے ایک کرد کو سوز عرب سے نوازا —

اپنے اس غلام کو بھی اپنی خدمت اقدس میں طلب فرمائیے۔

Beloved Master, you bestowed the fire of Arabia upon a Kurd —

Summon this slave of yours into your sacred presence as well.

5858
بنده ئی چون لاله داغی در جگر
دوستانش از غم او بی خبر

ایک ایسا غلام (اقبال) جس کے جگر میں لالہ کی طرح داغ ہے —

اور اسکے دوست اسکے غم سے بے خبر ہیں۔

A slave who bears a scar in his liver like the tulip —

And whose friends remain entirely oblivious to his sorrow.

5959
بنده ئی اندر جهان نالان چو نی
تفته جان از نغمه های پی به پی

ایسا غلام جو دنیا میں بانسری کی مانند نالاں ہے —

اور پے بہ پے نغموں نے جس کی روح کو پگھلا کے رکھ دیا ہے۔

A slave who laments in the world like a reed-flute —

And whose soul has been melted by unrelenting melodies.

6060
در بیابان مثل چوب نیم سوز
کاروان بگذشت و من سوزم هنوز

میری حالت اس آدھ جلی لکڑی کی مانند ہے —

جسے قافلہ والے جنگل ہی میں چھوڑ کر خود آگے نکل گئے ہوں اور وہ ابھی سلگ رہی ہو۔

My state is like that of a half-burnt log in the wilderness —

The caravan has passed by, and I am smoldering still.

6161
اندرین دشت و دری پهناوری
بو که آید کاروانی دیگری

اس وسیع دشت اور درے میں پڑا (جل رہا ہوں) —

ممکن ہے پھر کوئی قافلہ ادھر آ نکلے۔

I lie burning in this vast desert and mountain pass —

In the hope that perhaps another caravan might come this way.

6262
جان ز مهجوری بنالد در بدن
نالهٔ من وای من ای وای من !

میری روح جدائی کے باعث بدن میں فریاد کُناں ہے —

میری فریاد (پر) افسوس ہائے افسوس۔

Because of separation, my soul cries out within my body —

Alas for my lament, oh, alas for me!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آدمیت زار نالید از فرنگ

زندگی هنگامه برچید از فرنگ

علامہ اقبال»مثنوی پس چه باید کرد ای اقوام شرق»بخش 13 - پس چه باید کرد ای اقوام شرق

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

تصاویر

◆

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00