میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوں

Toggle stanza 1
میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوں
1

میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوں

تیرا بندہ ہوں اے خدا کچھ ہوں

2

جزو و کل کو نہیں سمجھتا میں

دل میں تھوڑا سا جانتا کچھ ہوں

3

تجھ سے الفت نباہتا ہوں میں

باوفا ہوں کہ بے وفا کچھ ہوں

4

جب سے ناآشنا ہوں میں سب سے

تب کہیں اس سے آشنا کچھ ہوں

5

نشۂ عشق لے اڑا ہے مجھے

اب مزے میں اڑا رہا کچھ ہوں

6

خواب میرا ہے عین بیداری

میں تو اس میں بھی دیکھتا کچھ ہوں

7

گرچہ کچھ بھی نہیں ہوں میں لیکن

اس پہ بھی کچھ نہ پوچھو کیا کچھ ہوں

8

سمجھے وہ اپنا خاکسار مجھے

خاک رہ ہوں کہ خاک پا کچھ ہوں

9

چشم الطاف فخر دیں سے ہوں

اے ظفرؔ کچھ سے ہو گیا کچھ ہوں

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…