میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوں
شاعر: بہادر شاہ ظفرؔ
Toggle stanza 1میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوں
11
میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوں
تیرا بندہ ہوں اے خدا کچھ ہوں
22
جزو و کل کو نہیں سمجھتا میں
دل میں تھوڑا سا جانتا کچھ ہوں
33
تجھ سے الفت نباہتا ہوں میں
باوفا ہوں کہ بے وفا کچھ ہوں
44
جب سے ناآشنا ہوں میں سب سے
تب کہیں اس سے آشنا کچھ ہوں
55
نشۂ عشق لے اڑا ہے مجھے
اب مزے میں اڑا رہا کچھ ہوں
66
خواب میرا ہے عین بیداری
میں تو اس میں بھی دیکھتا کچھ ہوں
77
گرچہ کچھ بھی نہیں ہوں میں لیکن
اس پہ بھی کچھ نہ پوچھو کیا کچھ ہوں
88
سمجھے وہ اپنا خاکسار مجھے
خاک رہ ہوں کہ خاک پا کچھ ہوں
99
چشم الطاف فخر دیں سے ہوں
اے ظفرؔ کچھ سے ہو گیا کچھ ہوں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

