مر گئے اے واہ ان کی ناز برداری میں ہم
Poet: Bahadur Shah Zafar
Toggle stanza 1مر گئے اے واہ ان کی ناز برداری میں ہم
مر گئے اے واہ ان کی ناز برداری میں ہم
دل کے ہاتھوں سے پڑے کیسی گرفتاری میں ہم
سب پہ روشن ہے ہماری سوزش دل بزم میں
شمع ساں جلتے ہیں اپنی گرم بازاری میں ہم
یاد میں ہے تیرے دم کی آمد و شد پر خیال
بے خبر سب سے ہیں اس دم کی خبرداری میں ہم
جب ہنسایا گردش گردوں نے ہم کو شکل گل
مثل شبنم ہیں ہمیشہ گریہ و زاری میں ہم
چشم و دل بینا ہے اپنے روز و شب اے مردماں
گرچہ سوتے ہیں بظاہر پر ہیں بیداری میں ہم
دوش پر رخت سفر باندھے ہے کیا غنچہ صبا
دیکھتے ہیں سب کو یاں جیسے کہ تیاری میں ہم
کب تلک بے دید سے یا رب رکھیں چشم وفا
لگ رہے ہیں آج کل تو دل کی غم خواری میں ہم
دیکھ کر آئینہ کیا کہتا ہے یارو اب وہ شوخ
ماہ سے صد چند بہتر ہیں اداداری میں ہم
اے ظفرؔ لکھ تو غزل بحر و قوافی پھیر کر
خامۂ در ریز سے ہیں اب گہر باری میں ہم
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

