مر گئے اے واہ ان کی ناز برداری میں ہم

Toggle stanza 1
مر گئے اے واہ ان کی ناز برداری میں ہم
1

مر گئے اے واہ ان کی ناز برداری میں ہم

دل کے ہاتھوں سے پڑے کیسی گرفتاری میں ہم

2

سب پہ روشن ہے ہماری سوزش دل بزم میں

شمع ساں جلتے ہیں اپنی گرم بازاری میں ہم

3

یاد میں ہے تیرے دم کی آمد و شد پر خیال

بے خبر سب سے ہیں اس دم کی خبرداری میں ہم

4

جب ہنسایا گردش گردوں نے ہم کو شکل گل

مثل شبنم ہیں ہمیشہ گریہ و زاری میں ہم

5

چشم و دل بینا ہے اپنے روز و شب اے مردماں

گرچہ سوتے ہیں بظاہر پر ہیں بیداری میں ہم

6

دوش پر رخت سفر باندھے ہے کیا غنچہ صبا

دیکھتے ہیں سب کو یاں جیسے کہ تیاری میں ہم

7

کب تلک بے دید سے یا رب رکھیں چشم وفا

لگ رہے ہیں آج کل تو دل کی غم خواری میں ہم

8

دیکھ کر آئینہ کیا کہتا ہے یارو اب وہ شوخ

ماہ سے صد چند بہتر ہیں اداداری میں ہم

9

اے ظفرؔ لکھ تو غزل بحر و قوافی پھیر کر

خامۂ در ریز سے ہیں اب گہر باری میں ہم

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…