نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا

Toggle stanza 1
نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا
1

نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا

ادھر سے کیا نہ ہوا پر ادھر سے کچھ نہ ہوا

2

جواب صاف تو لاتا اگر نہ لاتا خط

لکھا نصیب کا جو نامہ بر سے کچھ نہ ہوا

3

ہمیشہ فتنے ہی برپا کیے مرے سر پر

ہوا یہ اور تو اس فتنہ گر سے کچھ نہ ہوا

4

بلا سے گریۂ شب تو ہی کچھ اثر کرتا

اگرچہ عشق میں آہ سحر سے کچھ نہ ہوا

5

جلا جلا کے کیا شمع ساں تمام مجھے

بس اور تو مجھے سوز جگر سے کچھ نہ ہوا

6

رہیں عدو سے وہی گرم جوشیاں اس کی

اس آہ سرد اور اس چشم تر سے کچھ نہ ہوا

7

اٹھایا عشق میں کیا کیا نہ درد سر میں نے

حصول پر مجھے اس درد سر سے کچھ نہ ہوا

8

شب وصال میں بھی میری جان کو آرام

عزیزو درد جدائی کے ڈر سے کچھ نہ ہوا

9

نہ دوں گا دل اسے میں یہ ہمیشہ کہتا تھا

وہ آج لے ہی گیا اور ظفرؔ سے کچھ نہ ہوا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…