نہ اس کا بھید یاری سے نہ عیاری سے ہاتھ آیا

Toggle stanza 1
نہ اس کا بھید یاری سے نہ عیاری سے ہاتھ آیا
1

نہ اس کا بھید یاری سے نہ عیاری سے ہاتھ آیا

خدا آگاہ ہے دل کی خبرداری سے ہاتھ آیا

2

نہ ہوں جن کے ٹھکانے ہوش وہ منزل کو کیا پہنچے

کہ رستہ ہاتھ آیا جس کی ہشیاری سے ہاتھ آیا

3

ہوا حق میں ہمارے کیوں ستم گر آسماں اتنا

کوئی پوچھے کہ ظالم کیا ستم گاری سے ہاتھ آیا

4

اگرچہ مال دنیا ہاتھ بھی آیا حریصوں کے

تو دیکھا ہم نے کس کس ذلت و خواری سے ہاتھ آیا

5

نہ کر ظالم دل آزاری جو یہ دل منظور ہے لینا

کسی کا دل جو ہاتھ آیا تو دل داری سے ہاتھ آیا

6

اگرچہ خاکساری کیمیا کا سہل نسخہ ہے

ولیکن ہاتھ آیا جس کے دشواری سے ہاتھ آیا

7

ہوئی ہرگز نہ تیرے چشم کے بیمار کو صحت

نہ جب تک زہر تیرے خط زنگاری سے ہاتھ آیا

8

کوئی یہ وحشیٔ رم دیدہ تیرے ہاتھ آیا تھا

پر اے صیادوش دل کی گرفتاری سے ہاتھ آیا

9

ظفرؔ جو دو جہاں میں گوہر مقصود تھا اپنا

جناب فخر دیں کی وہ مددگاری سے ہاتھ آیا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…