نہ دائم غم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

Toggle stanza 1
نہ دائم غم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
1

نہ دائم غم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

تبدل یاں ہے ہر ساعت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

2

گریباں چاک ہوں گاہے اڑاتا خاک ہوں گاہے

لیے پھرتی مجھے وحشت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

3

ابھی ہیں وہ مرے ہم دم ابھی ہو جائیں گے دشمن

نہیں اک وضع پر صحبت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

4

جو شکل شیشہ گریاں ہوں تو مثل جام خنداں ہوں

یہی ہے یاں کی کیفیت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

5

کسی وقت اشک ہیں جاری کسی وقت آہ اور زاری

غرض حال غم فرقت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

6

کوئی دن ہے بہار گل پھر آخر ہے خزاں بالکل

چمن ہے منزل عبرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

7

ظفرؔ اک بات پر دائم وہ ہووے کس طرح قائم

جو اپنی پھیرتا نیت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…