نہ دائم غم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
Poet: Bahadur Shah Zafar
Toggle stanza 1نہ دائم غم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
11
نہ دائم غم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
تبدل یاں ہے ہر ساعت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
22
گریباں چاک ہوں گاہے اڑاتا خاک ہوں گاہے
لیے پھرتی مجھے وحشت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
33
ابھی ہیں وہ مرے ہم دم ابھی ہو جائیں گے دشمن
نہیں اک وضع پر صحبت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
44
جو شکل شیشہ گریاں ہوں تو مثل جام خنداں ہوں
یہی ہے یاں کی کیفیت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
55
کسی وقت اشک ہیں جاری کسی وقت آہ اور زاری
غرض حال غم فرقت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
66
کوئی دن ہے بہار گل پھر آخر ہے خزاں بالکل
چمن ہے منزل عبرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
77
ظفرؔ اک بات پر دائم وہ ہووے کس طرح قائم
جو اپنی پھیرتا نیت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

